Friday, 21 January 2022

خواتین اپنی حفاظت کیسے کریں؟

*★ اگر ایک خاتون کسی اجنبی مرد کی موجودگی میں اپنے آپ کو تنہا پائے تو وہ کیا کرے جب وہ ایک اونچی اپارٹمنٹ یا عمارت میں رات گئے لفٹ میں داخل ہوتی ہے؟*
*ماہرین کہتے ہیں: لفٹ میں داخل ہوں۔ اگر آپ کو 13 ویں منزل تک پہنچنے کی ضرورت ہے تو اپنی منزل تک تمام بٹن دبادیں۔* *تاکہ لفٹ ہرمنزل پر رکتی ہوئی جائے کوئی بھی ایسی لفٹ میں آپ پر حملہ کرنے کی جرات نہیں کرے گا جو ہر منزل پر رک جائے۔*
*★ اگر آپ اپنے گھر میں اکیلے ہوں تو کوئی اجنبی آپ پر حملہ کرنے کی کوشش کرے ، کچن میں بھاگ جائیے۔*
*ماہرین کہتے ہیں: آپ اکیلے جانتے ہیں کہ مرچ پاوڈر اور ہلدی پاوڈر کہاں رکھی جاتی ہے۔* *اور چاقو اور پلیٹیں کہاں ہیں۔* *ان سب کو مہلک ہتھیاروں میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ اگر اور کچھ نہیں تو پلیٹوں اور برتنوں کو ہر طرف پھینکنا شروع کردیں۔ انہیں توڑیں۔ چیخیں۔* *یاد رکھیں کہ شور ... چھیڑ چھاڑ کا سب سے بڑا دشمن ہے۔* *وہ بھاگ جائےگا پکڑ نہیں سکے گا۔*

*★ایک اور طریقہ ہے کہ چھوٹی سی ڈبیامیں پسی ہوئی مرچ اپنے پرس میں ساتھ رکھیں جو کھول کر حملہ آور کے چہرےپر پھینکیں اس سے حملہ آور مر تو نہیں سکتا مگر آپکو کچھ سوچنے یا کرنے کیلیئے چند لمحات مل سکتےہیں.*
*★ رات کو ٹیکسی لینا۔*
*ماہرین کہتے ہیں: رات کو ٹیکسی یا آٹو میں سوار ہونے سے پہلے اس کا رجسٹریشن نمبر نوٹ کر لیں۔ پھر اپنے گھر والوں یا دوست کو فون کرنے کے لیے موبائل کا استعمال کریں اور ان کو اس زبان میں تفصیلات بتائیں جو ڈرائیور سمجھتا ہے ۔* *ڈرائیور اب جانتا ہے کہ کسی کے پاس اس کی تفصیلات ہیں اور اگر کچھ غلط ہو گیا تو وہ شدید پریشانی میں پڑ جائے گا۔* *وہ اب آپ کو محفوظ گھر لے جانے کا پابند ہے۔ ایک ممکنہ حملہ آور اب آپ کا حقیقی محافظ ہے!*
*★ کیا ہوگا اگر ڈرائیور کسی گلی میں راستہ تبدیل کر لے اور آپ کو لگتا ہے کہ آپ خطرے کے علاقے میں داخل ہو رہے ہیں؟*
*ماہرین کا کہنا ہے کہ اپنے پرس کی رسی یا اپنی چوڑی اس کے گلے میں لپیٹ کر اسےسختی سے کھینچنے کے لیے استعمال کریں۔ سیکنڈوں میں ، وہ گھٹن اور بے بسی محسوس کرے گا۔ اگر آپ کے پاس پرس یا چوڑی نہیں ہے تو اسے صرف اس کے کالر سے کھینچیں۔ اس کی قمیض کا اوپر والا بٹن ، وہی چال چلے گا۔*
*★ اگر آپ کو راستے میں کسی کی وجہ سے ڈر ہے تو:*
*ماہر ین کہتے ہیں: ایک دکان یا گھر میں داخل ہوں اور اپنی حالت بیان کریں۔ اگر رات ہے اور دکانیں نہیں کھلی ہیں تو اے ٹی ایم باکس کے اندر چلےجائیں۔* *اے ٹی ایم مراکز میں ہمیشہ کلوز سرکٹ ٹیلی ویژن ہوتا ہے۔* *شناخت کے خوف سے ، کوئی بھی آپ پر حملہ کرنے کی جرات نہیں کرے گا۔*
*سب سے بہتر ، ذہنی طور پر چوکس رہنا آپ کے پاس سب سے بڑا ہتھیار ہے۔*
*★اگر آپکاکوئی عزیزگھرسےباہرہے اور کوئی اجنبی یاکم جان پہچان والاشخص آکرکہتاہےکہ آپکےاس عزیزکوحادثہ پیش آگیاہےآپکولےکرجاناہےتوہرگزہرگزمت جائیے*
*★اور سب سے اہم بات کہ بناکسی اشد،سخت اور انتہائی مجبوری کے تنہاسفرنہ کیجیئے یہ سب سے محفوظ طریقہ ہے.*
*★برائے مہربانی ان تمام خواتین کویہ میسج فارورڈ کریں ، جن کی آپ پرواہ کرتے ہیں بیداری پھیلانے کے لیے کیونکہ یہ کم از کم ہےجو ہم ایک سماجی اور اخلاقی مقصد اور اپنی خواتین کی حفاظت کے لیے کر سکتے ہیں۔*
*★ اللہ کریم اپنی رحمت کےصدقے تمام اسلامی بہنوں بیٹیوں کی ایسے درندوں سے حفاظت فرمائے*

*پیشکش 🏷️*
*(خواتین اسلام گروپ)*

مسلمان بھائی کو ڈڑانا



*♥️ آج کـی مُستنــد حــدیـث ♥️*

Thursday, 20 January 2022

خلیفہ بلا فصل خلیفہ اوّل ابو بکر صدیق

♥️بارگاہِ سیدنا صدیق اکبر رض میں♥️

دیا اسلام پر پہرا عجب صدیقِ اکبر نے
لیا خاطر میں طوفانوں کو کب صدیقِ اکبر نے 

رسالت پر لٹاؤں کیسے اھلِ خانہ اور خود کو 
اسی دھن میں بِتائے روز و شب صدیقِ اکبر نے

 جدا کرتی ہے رتبے میں وہ غار ثور کی شب جب 
حفاظت کی نبی کی جاں بلب صدیقِ اکبر نے

بُھلا کیسے سکیں گے سرغنے اور پاپ باطل کے 
کہ جن پہ اپنا ڈھایا تھا غضب صدیقِ اکبر نے

ملائک آپ کی سادہ اداؤں پر فدا دیکھے 
کیا تھا زیب تن اک ٹاٹ جب صدیقِ اکبر نے

فقط ابروئے آقا کے اشارے پر لٹاکر کر گھر 
ہمیں ایثار کا بتلایا ڈھب صدیقِ اکبر نے

اُنھیں پہلو ءِ آقاﷺ میں جگہ مل جائے گی صؔارِم
بتایا کرکے آقا کا ادب صدیقِ اکبر نے

""""""""""""""""""""""""""""""""""""""""""""
✍🏻: محمد سمیع اللّٰه عباسی صؔارِم

Wednesday, 19 January 2022

عزت میں اضافہ



🍀 *معاف کرنے سے عزت میں اضافہ!*
🔹 *آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : صدقے نے مال میں کبھی کوئی کمی نہیں کی اور معاف کرنے سے اللہ تعالیٰ بندے کو عزت ہی میں بڑھاتا ہے اور کوئی شخص (صرف اور صرف) اللہ کی خاطر تواضع (انکسار) اختیار نہیں کرتا مگر اللہ تعالیٰ اس کا مقام بلند کر دیتا ہے۔*🔹
📗 «صحیح مسلم-2588»


❄❄❄❄❄❄❄❄❄❄❄
💜💙💜💙💜💙💜💙💜💙💜

سورہ یوسف آیت 40



💖🌼 *_پــیـغــام قـــرآن_*🌼💖

Tuesday, 18 January 2022

عربوں کی تقسیم



واقعہ سودا شجّرِ کھجور

آنکھیں نم کرنے والا اور
ایمان کو تازہ کر دینے والا واقعہ ۔ ۔ ۔ اگر ٹائم ہو تو ضرور پڑہیں پلیز،
سرکارِ دو عالم حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم اپنے صحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہم کے درمیان تشریف فرما تھے کہ ایک یتیم جوان شکایت لیئے حاضر خدمت ہوا۔ کہنے لگا یا رسول اللہ؛(صلی اللہ علیہ والہ وسلم) میں اپنی کھجوروں کے باغ کے ارد گرد دیوار تعمیر کرا رہا تھا کہ میرے ہمسائے کی کھجور کا ایک درخت دیوار کے درمیان میں آ گیا۔ میں نے اپنے ہمسائے سے درخواست کی کہ وہ اپنی کھجور کا درخت میرے لیئے چھوڑ دے تاکہ میں اپنی دیوار سیدھی بنوا سکوں، اُس نے دینے سے انکار کیا تو میں نے اُس کھجور کے درخت کو خریدنے کی پیشکس کر ڈالی، میرے ہمسائے نے مجھے کھجور کا درخت بیچنے سے بھی انکار کر دیا ہے۔
سرکار صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اُس نوجوان کے ہمسائے کو بلاوا بھیجا۔ ہمسایہ حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اُسے نوجوان کی شکایت سُنائی جسے اُس نے تسلیم کیا کہ واقعتا ایسا ہی ہوا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اُسے فرمایا کہ تم اپنی کھجور کا درخت اِس نوجوان کیلئے چھوڑ دو یا اُس درخت کو نوجوان کے ہاتھوں فروخت کر دو اور قیمت لے لو۔ اُس آدمی نے دونوں حالتوں میں انکار کیا۔
آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اپنی بات کو ایک بار پھر دہرایا؛ کھجور کا درخت اِس نوجوان کو فروخت کر کے پیسے بھی وصول کر لو اور تمہیں جنت میں بھی ایک عظیم الشان کھجور کا درخت ملے گا جِس کے سائے کی طوالت میں سوار سو سال تک چلتا رہے گا۔
دُنیا کےایک درخت کے بدلے میں جنت میں ایک درخت کی پیشکش ایسی عظیم تھی جسکو سُن کر مجلس میں موجود سارے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم دنگ رہ گئے۔ سب یہی سوچ رہے تھے کہ ایسا شخص جو جنت میں ایسے عظیم الشان درخت کا مالک ہو کیسے جنت سے محروم ہو کر دوزخ میں جائے گا۔ مگر وائے قسمت کہ دنیاوی مال و متاع کی لالچ اور طمع آڑے آ گئی اور اُس شخص نے اپنا کھجور کا درخت بیچنے سے انکار کردیا۔
مجلس میں موجود ایک صحابی (ابا الدحداح) آگے بڑھے اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے عرض کی، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم، اگر میں کسی طرح وہ درخت خرید کر اِس نوجوان کو دیدوں تو کیا مجھے جنت کا وہ درخت ملے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے جواب دیا ہاں تمہیں وہ درخت ملے گا۔
ابا الدحداح اُس آدمی کی طرف پلٹے اور اُس سے پوچھا میرے کھجوروں کے باغ کو جانتے ہو؟ اُس آدمی نے فورا جواب دیا؛ جی کیوں نہیں، مدینے کا کونسا ایسا شخص ہے جو اباالدحداح کے چھ سو کھجوروں کے باغ کو نہ جانتا ہو، ایسا باغ جس کے اندر ہی ایک محل تعمیر کیا گیا ہے، باغ میں میٹھے پانی کا ایک کنواں اور باغ کے ارد گرد تعمیر خوبصورت اور نمایاں دیوار دور سے ہی نظر آتی ہے۔ مدینہ کے سارے تاجر تیرے باغ کی اعلٰی اقسام کی کھجوروں کو کھانے اور خریدنے کے انتطار میں رہتے ہیں۔
ابالداحداح نے اُس شخص کی بات کو مکمل ہونے پر کہا، تو پھر کیا تم اپنے اُس کھجور کے ایک درخت کو میرے سارے باغ، محل، کنویں اور اُس خوبصورت دیوار کے بدلے میں فروخت کرتے ہو؟
اُس شخص نے غیر یقینی سے سرکارِ دوعالم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی طرف دیکھا کہ کیا عقل مانتی ہے کہ ایک کھجور کے بدلے میں اُسے ابالداحداح کے چھ سو کھجوروں کے باغ کا قبضہ بھی مِل پائے گا کہ نہیں؟ معاملہ تو ہر لحاظ سے فائدہ مند نظر آ رہا تھا۔ حضور پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم اور مجلس میں موجود صحابہ کرام رضی اللہ عنہما نے گواہی دی اور معاملہ طے پا گیا۔
ابالداحداح نے خوشی سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو دیکھا اور سوال کیا؛ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، جنت میں میرا ایک کھجور کا درخت پکا ہو گیا ناں؟
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں۔ ابالدحداح سرکار صلی اللہ علیہ وسلم کے جواب سے حیرت زدہ سے ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اپنی بات کو مکمل کرتے ہوئے جو کچھ فرمایا اُس کا مفہوم یوں بنتا ہے کہ؛ اللہ رب العزت نے تو جنت میں ایک درخت محض ایک درخت کے بدلے میں دینا تھا۔ تم نے تو اپنا پورا باغ ہی دیدیا۔ اللہ رب العزت جود و کرم میں بے مثال ہیں اُنہوں نے تجھے جنت میں کھجوروں کے اتنے باغات عطاء کیئے ہیں کثرت کی بنا پر جنکے درختوں کی گنتی بھی نہیں کی جا سکتی۔ ابالدحداح، میں تجھے پھل سے لدے ہوئے اُن درختوں کی کسقدر تعریف بیان کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم اپنی اِس بات کو اسقدر دہراتے رہے کہ محفل میں موجود ہر شخص یہ حسرت کرنے لگا اے کاش وہ ابالداحداح ہوتا۔
ابالداحداح وہاں سے اُٹھ کر جب اپنے گھر کو لوٹے تو خوشی کو چُھپا نہ پا رہے تھے۔ گھر کے باہر سے ہی اپنی بیوی کو آواز دی کہ میں نے چار دیواری سمیت 

یہ باغ، محل اور کنواں بیچ دیا ہے۔

بیوی اپنے خاوند کی کاروباری خوبیوں اور صلاحیتوں کو اچھی طرح جانتی تھی، اُس نے اپنے خاوند سے پوچھا؛ ابالداحداح کتنے میں بیچا ہے یہ سب کُچھ؟
ابالداحداح نے اپنی بیوی سے کہا کہ میں نے یہاں کا ایک درخت جنت میں لگے ایسے ایک درخت کے بدلے میں بیچا ہے جِس کے سایہ میں سوار سو سال تک چلتا رہے۔
ابالداحداح کی بیوی نے خوشی سے چلاتے ہوئے کہا؛ ابالداحداح، تو نے منافع کا سودا کیا ہے۔ ابالداحداح، تو نے منافع کا سودا کیا ہے۔
مسند احمد ٣/١٤٦،
تفسیر ابن کثیر جز ٢٧، صفحہ ٢٤٠ پر بھی یہی واقعہ مختصر الفاظ میں موجود ہے