Saturday, 12 February 2022

*فرشتہ نما انسان* 

آج مجھے اپنی زندگی کی پہلی کمائی ملنے والی تھی. تین ماہ کی تنخواہ ایک ساتھ  ملی اور ساتھ چھٹی بھی مل گئی.  گھر پہنچا تو عید کا سماں تھا.  ماں باپ بہن بھائی سب بہت خوش تھے. میں نے ساری رقم والدہ کے ہاتھ پر رکھ دی.  والدہ نے رقم کا تیسرا حصہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی نیت سے علیحدہ کیا اور کہا کہ اس رقم سے ایک بیوہ عورت کے گھر راشن خرید کر پہنچا دینا جو دور کے ایک محلے میں رہتی تھی.  میں اسی وقت گیا اور راشن خرید کر لایا. گھر میں میرے لئے پر تکلف طعام کا انتظام کیا گیا تھا.  بہن بھائیوں کے ساتھ مل کر لذیذ کھانوں کے مزے اڑائے اور سفر کی تھکاوٹ دور کرنے کی غرض سے رضائی میں گھس گیا.  آنکھیں نیند سے بوجھل ہو رہی تھیں کہ اچانک اس بیوہ عورت اور اس کے یتیم بچوں کا خیال آیا. ارادہ کیا کہ ابھی جاؤں اور سامان پہنچا آؤں، طبیعت میں سُستی تھی سوچا کل پہنچا دوں گا.  لیکن بعد میں خیال آیا میں تو پر تکلف کھانے کا مزا لے چکا کہیں وہ بچے بھوکے نہ ہوں.  اسی وقت لحاف سے نکلا,  ایک چادر اوڑھی،تھیلا کاندھے پر رکھا  اور اس کے گھر کی طرف نکل پڑا.  
شدید سردی تھی,  دھند بھی زیادہ تھی اور بھاری تھیلا اٹھانے میں بھی کچھ دقت ہو رہی تھی. ایک دور محلے میں اس عورت کا گھر تھا.اس کا شوہر مزدوری کرتا تھا اور چار بچے تھے.  ایک ناگہاں حادثے میں شوہر کی موت ہو گئی اور اب اسکے یتیم بچوں پر دست شفقت رکھنے والا کوئی نہ تھا.  قسمت بھی بہت ستم ظریف ہے......... 
خیالات کا اک سمندر لئے اس بیوہ عورت کے گھر کے باہر پہنچا. گھر کیا تھا بلکہ ایک ڈربہ تھا. ایک کمرہ, چھوٹا سا صحن اور ایک خمیدہ سی چار دیواری تھی. دروازہ کھٹکھٹایا تو ایک 5 سالہ بچی باہر آئی. جس کے چہرے پر پریشانی, خوف اور بھوک نمایاں تھی.  میں اس کے چہرے کو تکے جا رہا تھا اور دل ہی دل میں دعا کر رہا تھا کہ اللہ کسی بچے پر ایسا وقت نہ لائے. اس بچی نے ایک پرانا سا جوڑا پہنا ہوا تھا اور شدید سردی میں ایک پھٹی پرانی جرسی پہنی ہوئی تھی . پاؤں برہنہ تھے وہ بھی اس سردی میں کہ پیروں کو جما کہ رکھ دے. میں نے کچھ کہے سنے بغیر راشن والا تھیلا زمین پر رکھا. تھیلے کو دیکھتے ہی وہ بولی,"کیا اس میں کھانے کا سامان ہے؟" 
یہ سُننا تھا کہ میں حیران ہو گیا. ایک بار پھر اس نے یہی سوال دہرایا. میں نے مثبت انداز میں سر ہلایا. وہ بچی خوشی کے مارے چیختی چلاتی ماں کہ طرف بھاگی اور یہ کہے جا رہی تھی "امی فرشتہ آگیا,  امی فرشتہ آگیا,  امی فرشتہ آگیا " اور پھر دو اور چھوٹے چھوٹے بچے خوشی مارے دروازے پر دوڑے چلے آئے. کبھی مجھے دیکھتے کبھی اس تھیلے کو اور خوشی سے لوٹ پوٹ ہوئے جا رہے تھے. 
میری آنکھوں سے آنسو رواں ہونے لگے,  ہونٹ کپکپا رہے تھے اور جسم میں ایک سرد لہر سی دوڑ رہی تھی. یا اللہ یہ کیا ماجرا ہے؟ کیوں یہ بچے مجھ گنہگار کو فرشتہ سمجھ بیٹھے ہیں. انہیں سوچوں میں غلطان تھا کہ ایک خاتون جو ان کی ماں تھی دروازے پر آئی اور دروازے کی اوٹ میں کھڑی ہوکر روہانسی آواز میں یہ کہنے لگی.  
میرے بچے دو دن سے بھوکے تھے. غیرت گوارا نہیں کرتی کہ کسی کے آگے ہاتھ پھیلاؤں. میرے مرحوم شوہر بھی محنت مزدوری کرتے تھے مگر کبھی کسی کے آگے ہاتھ نہ پھیلایا تھا. ان کے چلے جانے کے بعد ان کی دیکھ بھال کرنے والا کوئی نہیں. رشتہ داروں نے ہاتھ کھینچ لئے ہیں اور محلے والے بھی مدد نہیں کرتے.  مگر کبھی کبھی آپ جیسے نیک دل لوگ مدد کر دیتے ہیں.  میں دو دن سے بچوں کو یہ کہہ کر بہلا رہی تھی کہ ایک فرشتہ آئے گا اور ہمارے لئے کھانا لے آۓ گا. اسی لئے یہ آپ کو فرشتہ سمجھ بیٹھے ہیں. اس عورت نے اللہ کے حضور شکرانے کے چند کلمات ادا کئے, مجھے ڈھیر ساری دعائیں دیں اور شکریہ ادا کیا.
 میں وہاں سے واپس ہو لیا, آنسو رُکنے کا نام نہیں لے رہے تھے.  زندگی میں کبھی خود کو اتنا پرسکون محسوس نہیں کیا جتنا آج کر رہا تھا.  اور اندازہ لگایا کہ ایک بے بس انسان کی مدد کرنے سے جو روحانی سکون ملتا ہے وہ کسی اور کام میں نہیں.  
ہمارے اردگرد ایسے بہت سے غربا ہوتے ہیں جو مستحق ہونے کے باوجود کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلاتے.  مگر مدد کرنے والے ہاتھوں کے منتظر ضرور رہتے ہیں. دو وقت کی روٹی ہی ان کا کل جہاں ہوا کرتی ہے.  ایسے لوگوں کی مدد کرنی چاہیے چاہے وہ ایک وقت کھانا ہی کیوں نہ ہو. 
گھر آیا تو ماں نے پوچھا " بیٹا اتنی رات کہاں چلے گئے تھے بنا بتائے ؟" 
میں بے ساختہ بولا
فرشتہ بننے گیا تھا ۔

Friday, 21 January 2022

خواتین اپنی حفاظت کیسے کریں؟

*★ اگر ایک خاتون کسی اجنبی مرد کی موجودگی میں اپنے آپ کو تنہا پائے تو وہ کیا کرے جب وہ ایک اونچی اپارٹمنٹ یا عمارت میں رات گئے لفٹ میں داخل ہوتی ہے؟*
*ماہرین کہتے ہیں: لفٹ میں داخل ہوں۔ اگر آپ کو 13 ویں منزل تک پہنچنے کی ضرورت ہے تو اپنی منزل تک تمام بٹن دبادیں۔* *تاکہ لفٹ ہرمنزل پر رکتی ہوئی جائے کوئی بھی ایسی لفٹ میں آپ پر حملہ کرنے کی جرات نہیں کرے گا جو ہر منزل پر رک جائے۔*
*★ اگر آپ اپنے گھر میں اکیلے ہوں تو کوئی اجنبی آپ پر حملہ کرنے کی کوشش کرے ، کچن میں بھاگ جائیے۔*
*ماہرین کہتے ہیں: آپ اکیلے جانتے ہیں کہ مرچ پاوڈر اور ہلدی پاوڈر کہاں رکھی جاتی ہے۔* *اور چاقو اور پلیٹیں کہاں ہیں۔* *ان سب کو مہلک ہتھیاروں میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ اگر اور کچھ نہیں تو پلیٹوں اور برتنوں کو ہر طرف پھینکنا شروع کردیں۔ انہیں توڑیں۔ چیخیں۔* *یاد رکھیں کہ شور ... چھیڑ چھاڑ کا سب سے بڑا دشمن ہے۔* *وہ بھاگ جائےگا پکڑ نہیں سکے گا۔*

*★ایک اور طریقہ ہے کہ چھوٹی سی ڈبیامیں پسی ہوئی مرچ اپنے پرس میں ساتھ رکھیں جو کھول کر حملہ آور کے چہرےپر پھینکیں اس سے حملہ آور مر تو نہیں سکتا مگر آپکو کچھ سوچنے یا کرنے کیلیئے چند لمحات مل سکتےہیں.*
*★ رات کو ٹیکسی لینا۔*
*ماہرین کہتے ہیں: رات کو ٹیکسی یا آٹو میں سوار ہونے سے پہلے اس کا رجسٹریشن نمبر نوٹ کر لیں۔ پھر اپنے گھر والوں یا دوست کو فون کرنے کے لیے موبائل کا استعمال کریں اور ان کو اس زبان میں تفصیلات بتائیں جو ڈرائیور سمجھتا ہے ۔* *ڈرائیور اب جانتا ہے کہ کسی کے پاس اس کی تفصیلات ہیں اور اگر کچھ غلط ہو گیا تو وہ شدید پریشانی میں پڑ جائے گا۔* *وہ اب آپ کو محفوظ گھر لے جانے کا پابند ہے۔ ایک ممکنہ حملہ آور اب آپ کا حقیقی محافظ ہے!*
*★ کیا ہوگا اگر ڈرائیور کسی گلی میں راستہ تبدیل کر لے اور آپ کو لگتا ہے کہ آپ خطرے کے علاقے میں داخل ہو رہے ہیں؟*
*ماہرین کا کہنا ہے کہ اپنے پرس کی رسی یا اپنی چوڑی اس کے گلے میں لپیٹ کر اسےسختی سے کھینچنے کے لیے استعمال کریں۔ سیکنڈوں میں ، وہ گھٹن اور بے بسی محسوس کرے گا۔ اگر آپ کے پاس پرس یا چوڑی نہیں ہے تو اسے صرف اس کے کالر سے کھینچیں۔ اس کی قمیض کا اوپر والا بٹن ، وہی چال چلے گا۔*
*★ اگر آپ کو راستے میں کسی کی وجہ سے ڈر ہے تو:*
*ماہر ین کہتے ہیں: ایک دکان یا گھر میں داخل ہوں اور اپنی حالت بیان کریں۔ اگر رات ہے اور دکانیں نہیں کھلی ہیں تو اے ٹی ایم باکس کے اندر چلےجائیں۔* *اے ٹی ایم مراکز میں ہمیشہ کلوز سرکٹ ٹیلی ویژن ہوتا ہے۔* *شناخت کے خوف سے ، کوئی بھی آپ پر حملہ کرنے کی جرات نہیں کرے گا۔*
*سب سے بہتر ، ذہنی طور پر چوکس رہنا آپ کے پاس سب سے بڑا ہتھیار ہے۔*
*★اگر آپکاکوئی عزیزگھرسےباہرہے اور کوئی اجنبی یاکم جان پہچان والاشخص آکرکہتاہےکہ آپکےاس عزیزکوحادثہ پیش آگیاہےآپکولےکرجاناہےتوہرگزہرگزمت جائیے*
*★اور سب سے اہم بات کہ بناکسی اشد،سخت اور انتہائی مجبوری کے تنہاسفرنہ کیجیئے یہ سب سے محفوظ طریقہ ہے.*
*★برائے مہربانی ان تمام خواتین کویہ میسج فارورڈ کریں ، جن کی آپ پرواہ کرتے ہیں بیداری پھیلانے کے لیے کیونکہ یہ کم از کم ہےجو ہم ایک سماجی اور اخلاقی مقصد اور اپنی خواتین کی حفاظت کے لیے کر سکتے ہیں۔*
*★ اللہ کریم اپنی رحمت کےصدقے تمام اسلامی بہنوں بیٹیوں کی ایسے درندوں سے حفاظت فرمائے*

*پیشکش 🏷️*
*(خواتین اسلام گروپ)*